Navigation Menu
Sherani
January 112017

 شیرانی

کوہ سلیمان کے دامن میں واقع ضلع شیرانی پہلے ضلع ژوب کا حصہ تھا۔ 2006ء میں اسے الگ کرکے ضلع کی حیثیت دے دی گئی۔ یہاں شیرانی قبائل کی اکثریت ہے جس کی وجہ سے اس کا نام شیرانی پڑا ہے۔

More Information»
Dera Bugti
January 112017

ڈیرہ بگٹی

 

پنجاب کے ضلع راجن پور سے مغرب کی طرف روانہ ہوں تو تقریباً 40 کلو میٹر کے بعد بے آب و گیاہ، بنجر اور پتھریلی سرزمین شروع ہوجاتی ہے، اس سے ذرا آگے پہاڑی علاقہ شروع ہوجائے تو سمجھ لیجئے آپ غیور، بہادر اور صدیوں کی روایات کے امین بگٹی قبائل کی سرزمین ضلع ڈیرہ بگٹی کی حدود میں داخل ہوچکے ہیں۔ مشہور پہاری سلسلہ سلیمان رینج میں واقع ڈیرہ بگتی کی پانچ، چھ دہائیوں قبل کوئی خاص شناخت نہ تھی۔ اس علاقے کو پہلی عوامی شناخت یہاں کے مقام سوئی سے نکلنے والی قدرتی گیس کی دریافت نے دی اور دوسری شناخت اسے نواب اکبر خان بگٹی نے دی جو یہاں آباد قبائل کے سردار تھے۔ ڈیرہ بگتی کو 1983ء میں ضلع کی حیثیت ملی۔ خشک اور بنجر علاقہ ہونے کی وجہ سے زراعت نہ ہونے کے برابر ہے۔

More Information»
Harnai
January 112017

ہرنائی

ہرنائی کا نام ایک ہندو ہرنام داس کے نام پر ہے۔ 2007ء سے پہلے یہ ضلع سبی کا حصہ تھا۔ لورالائی، زیارت اور کوئٹہ اس کے قریبی اضلاع ہیں۔ اس کا مرکزی شہر ہرنائی کہلاتا ہے۔ اس کے چاروں طرف پہاڑ ہیں۔ تورغر اور ہزارہ ڈم کے مقام پر کوئلے کی کانیں ہیں، زرغون کے علاقے میں تیل کے بھی ذخائر موجود ہیں۔

More Information»
Musakhel
January 112017

موسیٰ خیل

ضلع موسیٰ خیل نے 1992ء میں ضلع لورالائی کی کوکھ سے جنم لیا۔ چھوٹی بڑی پہاڑیوں اور پتھریلی سطح کے ضلع میں کہیں کہیں زرخیز وادیاں ہیں۔ دریائے رازانی ضلع میں شمال سے جنوب کی طرف بہتا ہے۔ اس کے علاوہ پہاڑوں سے نکلنے والے چشموں سے بننے والی دیگر چھوٹی ندیاں برسات کے دنوں میں خوب شور مچاتی ہیں۔ اڑم کول مائنز، گیس کے ذخائر اور سنگ مرمر ضلع کے معاشی حالت میں تبدیلی لارہے ہیں۔

More Information»
Zhob
January 112017

ژوب

 

کوہ سلیمان کے دامن میں آباد دریائے ژوب کنارے واقع اس ضلع کا پرانا نام اپوزئی تھا۔ انگریز نے اس کا نام فورٹ سنڈیمان رکھا جبکہ 1975ء میں اسے ضلع بنایا گیا تھا تو اس کا نام ژوب رکھ دیا گیا۔ یہ افغانستان کے بہت قریب اور یہاں کی بیشتر آبادی پشتون ہے۔ ضلع ژوب بلوچستان کو خیبرپختونخوا اور پنجاب سے بھی ملاتا ہے۔ دریائے ژوب دو پہاڑی سلسلوں کو جدا کرتا ہے۔ زرعی زمین بہت کم البتہ جنگلات کافی تعداد میں موجود ہیں۔ لوگوں کی گزر اوقات زراعت کے ساتھ ساتھ جانوروں کی پیداوار سے منسلک ہے۔

More Information»
Sohbatpur
January 112017

صحبت پور

 

 

 

 

 

 

More Information»
Jaffarabad
January 112017

جعفرآباد

 

More Information»
Nasirabad
January 112017

نصیر آباد

 

 

More Information»
Bolan
January 112017

بولان

 

ضلع بولان کو ضلع کچھی بھی کہا جاتا ہے۔ اسے 31 دسمبر 1991ء کو ضلع کی حیثیت دی گئی۔ اس کے مشہور علاقوں میں بھاگ اور مچھ شامل ہیں۔ تین ہزار سال پرانی تہذیب مہر گڑھ کے آثار قدیمہ بھی بولان میں دریافت ہوئے ہیں۔ ماضی میں رند اور لاشاری بلوچوں کا میدان جنگ بھی بولان تھا۔ اس ضلع میں خشک پہاڑ بھی ہیں اور میدان بھی، پہاڑیوں کے بیچوں بیچ سرسبز و شاداب وادیاں مسحور کن منظر پیش کرتی ہیں۔ کاشتکاری کے لیے زمین بہت ہے لیکن پانی کی کمی نے اسے بانجھ بنا رکھا ہے۔
تاریخی درہ ضلع بولان کے دھانے پر واقع ڈھارڈر میں حضرت سید خواجہ ابراہیم دوپاسی مودودی چشتی کا مزار ہے۔ دریائے بولان کول پور سے نکلتا ہے اور آب گم کے قریب آکر زمین میں غائب ہوجاتا ہے۔ یہاں صنعت نام کی کوئی چیز نہیں البتہ مچھ کے علاقے میں کوئلے کی کانیں موجود ہیں۔ مچھ میں موجود جیل پاکستان کی بڑی جیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ جانور پالنا یہاں کے لوگوں کاشوق ہی نہیں بلکہ روزگار کا بھی ذریعہ ہے۔

More Information»
Barkhan
January 112017

بارکھان

 

ضلع بارکھان بھی 1991ء تک ضلع لورالائی کا حصہ تھا۔ اس کا نام باروزئی خان کے بعد امجد بارو خان کے نام پر ہے۔ کوہ سلیمان رینج میں واقع یہ ضلع بھی پہاڑی ہے۔ زرعی زمین بہت کم ہے اور لوگوں کی گزر اوقات کا ذریعہ لائیو اسٹاک ہے جبکہ رکھنی کے علاقے میں کاشتکاری بھی کی جاتی ہے۔ یہاں انگور، آڑو، سیب اور بادام کے باغات بھی ہیں

More Information»
Lora Lai
January 112017

لورالائی

 1906

میں وجود آنے والا بلوچستان کا ضلع لورالائی دو اطراف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے، درمیان میں زرخیز وادی ہے۔ لورالائی کی سرحدیں قلعہ عبداللہ، موسیٰ خیل، بارکھان، کوہلو، پشین اور زیارت کے اضلاع سے ملتی ہیں۔ ضلع کو دریائے انعم، دریائے صحن اور لاتعداد رود کوہئیاں سیراب کرتی ہیں لیکن یہ دریا بھی موسمی ہیں، برسات کے علاوہ موسم میں خشک پڑے رہتے ہیں۔ طورخیزی ڈیم اور کج عمق ڈیم لوگوں کے پانی کی ضروریات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چملانگ کی پہاڑیوں میں دکی کے مقام پر کوئلے اور سنگ مرمر کے ذخائر موجود ہیں۔ لوگوں کی گزر اوقات میں اونٹ، گھوڑے اور مال مویشی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

More Information»
Qila Saifullah
January 112017

قلعہ سیف اللّٰہ

قلعہ سیف اللہ 14 دسمبر 1998ء کو ضلع بنا۔ اس سے پہلے یہ ضلع ژوب کا حصہ ہوتا تھا۔ یہاں کا مسوم گرمیوں میں بہت گرم اور سردیوں میں شدید سرد ہوتا ہے اور پہاڑوں پر برف جم جاتی ہے۔ ضلع قلعہ سیف اللہ بنیادی طور پر ایک زرعی علاقہ ہے۔ لوگ گلہ بانی یا زراعت سے وابستہ ہیں۔ یہ ضلع ٹماٹر کی پیداوار کے حوالے سے بھی بہت مشہور ہے۔ یہاں انگور بھی کاشت ہوتے ہیں۔

More Information»
Ziarat
January 112017

زیارت

بلوچستان کا ضلع زیارت پر فضا پہاڑی علاقہ ہے اور یہ ضلع صنوبر کے جنگلات کی وجہ سے دنیا بھر میں معروف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زیارت میں صنوبر کے جنگلات کا دوسرا بڑا ذخیرہ ہے۔ یہاں کی آب و ہوا پھلوں خاص طور پر انگور، سیب اور چیری کی پیداوار کے لیے بہترین ہے۔ خریف کے موسم میں یہاں فصلیں اور سبزیاں کاشت ہوتی ہیں جبکہ ربیع کے دنوں میں یہ علاقہ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتا ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ غوسکئی کہلاتا تھا۔ 1886ء میں انگریزوں کی آمد کے بعد اس علاقے کا نام بابا خرواری کے مزار کے باعث ’’زیارت‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے بیماری کے آخری ایام زیارت میں بسر کیے تھے۔ اس عمارت کو اب قومی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ زلزلہ کی فالٹ لائن پر واقع ہے۔ 29 اکتوبر 2008ء کو بلوچستان کے زلزلہ میں زیارت میں تقریباً سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

More Information»
Quetta
January 112017

کوئٹہ

 

بلوچستان کا صدر مقام کوئٹہ آبادی کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ کوئٹہ چاروں جانب کوہ چلتن، کوہ مردان، زرغون اور کوہ مسلخ جیسے خشک پہاڑی سلسلوں سے گر قلعہ نما علاقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی ماہرین نے صوبائی دارالحکومت کے لیے یہ جگہ منتخب کی تھی۔ یہاں سردیوں میں شدید سردی اور برفی باری ہوتی ہے۔ 1935ء کے زلزلے نے اسے ملیہ میٹ کردیا تھا تاہم اس کی بہت قلیل عرصے میں تعمیر نو کی گئی۔ یہ ضلع ریلوے لائن اور سڑک کے ذریعے ایران کے شہر زاہدان سے ملا ہوا ہے۔ کسی زمانے میں کوئٹہ ملک کے پرفضا مقامات کی فہرست میں شامل تھا۔ بیشتر لوگ یہاں چھٹیاں گزارنے آیا کرتے تھے۔ ہنہ جھیل پر ہر وقت سیاحوں کی بھیڑ جمع رہتی تھی لیکن پچھلے چند سال سے یہ شہر ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے بہت بدنام ہوا ہے۔ بم دھماکوں، خودکش حملوں اور فائرنگ سے ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ان حملوں میں خاص طور پر ضلع میں رہائش پذیر ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

 

By Faisal Salahuddin

 

By Faisal Salahuddin

More Information»
Pishin
January 112017

پشین

ضلع پشین پھلوں کی پیدوار کے حوالے سے ملک بھر میں مشہور ہے۔ اس کے شمال میں ضعل قلعہ سیف اللہ اور افغانستان، مشرق میں لورالائی، جنوب میں زیارت اور کوئٹہ جبکہ مغرب میں قلعہ عبداللہ واقع ہے۔ اس ضلع کو تین دریا پشین لورا، سرخاب اور کرم سیراب کرتے ہیں۔ کاریز کی جگہ اب نہری نظام لے رہا ہے۔ ضلع کے ایک بڑے حصے میں جنگلات اور پھلوں خاص طور پر سیب کے باغات ہیں۔ لوگ گزر اوقات کے لیے بھیڑ بکریاں پالتے ہیں۔ یہاں صنعت نام کی کوئی چیز نہیں۔

More Information»
Qila Abdullah
January 112017

قلعہ عبداللّٰہ

 

قلعہ عبداللہ جنگ آزادی کے عظیم ہیرو غازی عبداللہ خان کے نام سے منسوب ہے۔ جنہوں نے انگریز کے بڑھتے ہوئے تسلط کو روکنے کے لیے یہاں قلعہ تعمیر کرایا تھا۔ قلعہ عبداللہ کو 1994ء میں پشین سے الگ کرکے ضلع کی حیثیت دی گئی تھی۔ مشرق میں اس کی حدود پشین جبکہ جنوب میں کوئٹہ اور مغرب میں افغانستان سے جاملتی ہیں۔ کوئٹہ قندھار شاہراہ پر ہونے کی وجہ سے قلعہ عبداللہ کی اہمیت ہر دور میں رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں یہ سیاسی اور انتظامی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ درہ خوجک اور برصغیر کی سب سے بڑی ریلوے سرنگ خوجک بھی اسی علاقے میں ہے۔ ضلع میں پانی کا ذریعہ برساتی نالے ہیں البتہ دریائے کرم اور دریائے پشین کچھ علاقوں کو سیراب کرتے ہیں۔ موسم سردیوں میں سخت سرد اور گرمیوں میں سخت گرم ہوتا ہے۔ پوپلازئی اور مشلاکھ میں کچھ جنگلات تھے لیکن وہ افغان مہاجرین کی آمد کے بعد ختم ہوگئے ہیں۔ زندگی کا پہیہ بھیڑ بکریوں کی افزائش سے چلتا ہے۔ مقامی افراد دودھ، اون اور گوشت بیچ کر گزارا کرتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے بھی منسلک ہے۔

More Information»
Sibi
January 112017

سبی

 

گرمیوں میں جب بھی ریڈیو یا ٹی وی پر موسم کا حال بتایا جاتا ہے تو درجہ حرارت کے اعتبار سے اکثر سبی پہلے نمبر پر ہوتا ہے۔ سبی پاکستان کا گرم ترین علاقہ ہے اور مئی، جون اور جولائی میں یہاں کا درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ہی رہتا ہے۔ برساتی نالوں اور چشموں سے بننے والا دریائے ناری یہاں کی سرزمین کو سیراب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہاں تین سو سال سے ہر سال سبی میلہ ہوتا ہے جس میں پہلے پہل علاقے کے نواب، سردار اور معتبرین اپنے جھگڑوں کا تصفیہ کرتے تھے اور پھر اس کی خوشی مناتے تھے لیکن اب یہ ثقافتی تقریب بن گئی ہے۔

More Information»
Mastung
January 112017

مستونگ

 

مستونگ براہوی زبان کے دو الفاظ مس اور تونگ پر مشتمل ہے۔ مس کا مطلب پہار اور تونگ کا مطلب گڑھا یا سوراخ ہے۔ مستونگ 1991ء سے پہلے ضلع قلات کا حصہ تھا مگر بعد میں اسے علیحدہ ضلع بنادیا گیا۔ مردار گھر یہاں کی سب سے بڑی پہاڑی ہے۔ دشت سب ڈویژن میں کوہ سیاہ واقع ہے۔ وادی مستونگ کو دریائے سرن آب سیراب کرتا ہے۔ لوگوں کی بسر اوقات بھیڑ بکریاں پال کر ہوتی ہے۔ ریت کے ٹیلوں کے درمیان کہیں کہیں تھوڑے بہت جنگلات ہیں۔ بلوچستان کے دیگر کئی علاقوں کی طرح اس ضلع میں بھی صنعت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

More Information»
Jhall Magssi
January 112017

جھل مگسی

 

سندھ اور بلوچستان کے درمیان واقع جھل مگسی کو 1991ء میں ضلع کی حیثیت ملی تھی۔ یہ ضلع ریگستانی علاقے پر مشتمل ہے۔ کہیں کہیں کیرتھر رینج کی پہاڑیاں ہیں۔ گنداواہ اس کا ہیڈکوارٹر ہے۔ دریائے بولان، بدرا، باگ اور مولا اس کے کچھ علاقوں کو سیراب کرتے ہیں تاہم یہ تمام صرف برسات میں اپنے جوبن پر ہوتے ہیں۔ اس پسماندہ ضلع  میں ہونے والے سالانہ کار جیپ ریلی نے علاقے کو دنیا بھر یں پہچان دلائی ہے۔

More Information»
Kalat
January 112017

 قلات

قیام پاکستان سے قبل قلات ایک آزاد ریاست تھی۔ برطانوی راج میں یہ ریاست انگریز کمشنر کی نگرانی میں تھی۔ قیام پاکستان سے دو روز قبل خان آف قلات نے اپنی آزادی کا اعلان کیا تاہم حکومت پاکستان نے اسے بغاوت سے تعبیر کرتے ہوئے فوج کشی کردی جس کے بعد خان آف قلات نے ریاست کو پاکستان کا حصہ بنادیا اور آج یہ بلوچستان کا محض ایک ضلع ہے۔ خشک اور بنجر پہاڑوں میں گھرا قلات بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ کیرتھر کے پہاڑی سلسلے میں ہروبی کے مقام پر کچھ جنگلات ہیں۔ موروندی کے اردگرد کے علاقے میں کچھ باغات ہیں اور کھیتی باڑی کی جاتی ہے۔ خشک علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں بھیڑ بکریوں کے ساتھ ساتھ اونٹ، گھوڑے اور گدھے بھی پالے جاتے ہیں۔

More Information»
Nushki
January 112017

نوشکی

 

ضلع نوشکی کے ایک طرف چٹیل پہاڑ اور دوسری طرف بڑا صحرائی علاقہ ہے۔ خانووال اور زنگی جھیلوں کے کنارے تھوڑی بہت کاشتکاری ہوتی ہے۔ یہاں کے خربوزے بہت مشہور ہیں۔ دفاعی نقطہ نظر سے تعمیر کیاگیا نوشکی قلعہ ضلع کی پہچان ہے۔ ضلع کے بیشتر علاقوں میں پانی کی شدید کمی ہے اور لوگ بارش کا پانی جمع کرکے اپنی اور جانوروں کی پیاس بجھاتے ہیں۔

More Information»
Khuzdar
January 112017

خوضدار

 

 

 

 

 

More Information»
Kharan
January 112017

خاران

 

ریاست قلاب کے بعد ’’ریاست خاران‘‘ قیام پاکستان میں شامل ہونے والی دوسری بلوچ ریاست تھیضلع پنجگور کو تقسیم کرکے ضلع خاران تشکیل دیا گیا جبکہ 2005ء میں ضلع خاران کی تقسیم سے واشک ضلع بنا۔راس کوہ کا پہاڑی سلسلہ ضلع خاران کو گدر اور سوراب کے علاقوں سے جدا کرتا ہے۔ جابجا ریتیلے ٹیلوں کی وجہ سے یہ علاقہ ریگستان کہلاتا ہے۔

More Information»
Chaghi
January 112017

چاغی

 

پاک ایران بارڈر پر بلوچستان کا ضلع چاغی کا نام عالمی سطح پر اس وقت ابھرا جب یہاں ایٹمی دھماکے کا تجربہ کیا گیا۔ ضلع چاغی مدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ پاکستان کا مشہور سینڈک پراجیکٹ اسی ضلع میں واقع ہے۔ ضلع میں دالبندین اور راس کوہ کا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔ یہاں کی زمین بنجر ہے اور پانی کا ذریعہ برساتی نالے ہیں۔ کہیں کہیں ٹیوب ویل اور کاریز کی مدد سے سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔

More Information»
Washuk
January 112017

واشک

ضلع پنجگور کو تقسیم کرکے ضلع خاران تشکیل دیا گیا جبکہ 2005ء میں ضلع خاران کی تقسیم سے واشک ضلع بنا۔ نوزائیدہ ضلع واشک پہاڑی اور صحرائی علاقے پر مشتمل ہے۔ جنوب میں کوہ سیہان واشک کی وادی رخشاں کو ضلع پنجگور سے جدا کرتا ہے۔ مشرقی جانب واقع راس کوہ ضلع واسک کو ضلع قلاب اور آواران کے علاقوں گدر، سوراب، رود تیجو، دشت اور وادی گوران سے علیحدہ کرتا ہے۔ ضلع کا صحرائی علاقہ شمال سے مغرب تک ہامون ماشکیل جبکہ مشرقی جانب کر پہاڑی سلسلے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس صحرا کے درمیان دریائے بودو اور مغرب میں دریائے ماسکیل بارشوں کے موسم میں بہتے ہیں۔ ضلع واشک میں کرومائیٹ، میگانیز اور کاپر کے معدنی ذخائر ہیں جبکہ تیل کی تلاش بھی جاری ہے۔

More Information»
Lasbela
January 112017

لسبیلہ

 

 لسبیلہ پہلے ایک ریاست تھی جو 1955ء تک قائم رہی۔ ساحلی پٹی پر ہونے کی وجہ سے ضلع لسبیلہ کا جنوب مغربی حصہ منگریو کے جنگلات اور دلدلی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس کے مشرق میں کراچی، شمال میں قلات اور مغرب میں مکران ڈویژن ہے۔ جنوب کی جانب بحیرہ عرب واقع ہے۔ تحصیل حب اور وندر کے صنعتے علاقے میں گڈانی شپ بریکنگ کی صنعت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ حب میں واقع حب ڈیم سے کراچی کو پینے کا پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔ اوتھل اور بیلہ زراعت و مائننگ کے لیے مشہور ہیں۔ سونمیانی کا ساحل ماہی گیروں کے لیے کشش کا باعث ہے۔ یہاں موجود جنگلات عرب شکاریوں کے لیے مختص ہیں۔

More Information»
Awaran
January 112017

آواران

 

آواران کو 4 نومبر 1992ء میں خضدار سے الگ کرکے الگ ضلع کی حیثیت دی گئی تھی۔ اس کی سرحدیں لسبیلہ، گوادر، کیچ، پنجگور، خاران اور خضدار کے اضلاع سے ملی ہوئی ہیں۔ چٹیل مکران اور گار کے پہاڑی سلسلوں کو دریائے مشکئی ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ ضلع کی وادی سراب کو دریائے نال اور دریائے ہنولی سیراب کرتے ہیں۔ کھجور یہاں کی سب سے بڑی پیداوار ہے۔ بیشتر لوگ بھیڑ بکریاں پال کر گزارا کرتے ہیں۔

More Information»
Panjgur

Panjgur

District

January 112017

پنجگور

 

ریاست قلاب کے بعد ’’ریاست خاران‘‘ قیام پاکستان میں شامل ہونے والی دوسری بلوچ ریاست تھی۔ ضلع پنجگور کا ضلعی صدر مقام رخشاں ندی کے کنارے ضلع کے مرکزی مقام ’’چتگان‘‘ میں واقع ہے۔ علاقے میں پائے جانے والے پانچ اولیا کے مقبروں کی وجہ سے اس علاقے کا نام پہلے ’’پنج نور‘‘ پھر پنج گور مشہور ہوا جبکہ کچھ لوگ پانچ پہاڑی ندیوں کی وجہ سے بھی اسے ’’پنج کور‘‘ کہتے ہیںضلع پنجگور کی بہت بڑی آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔ بارانی زمین خشکابہ کہلاتی ہے۔ ایک بڑے رقبے پر کھجور، انار اور انگور کے باغات ہیں۔ دیہی آبادی بھیڑ بکریاں اور اونٹ پالتی ہے۔

More Information»
Kech
January 112017

کیچ

 

ضلع کیچ مکران کے پہاڑی سلسلہ میں واقع ہے۔ 1995ء سے پہلے یہ ضلع تربت کا حصہ تھا۔ تربت شہر اس دریائے کیچ کے کنارے آباد ہے اور یہ باغات اور کھیت سیراب کرتا ہے۔ 2007ء میں دریائے کیچ کا بند ٹوٹنے سے پانی تربت شہر میں داخل ہوگیا تھا جس سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے تھے

More Information»
Gwadar
January 52017

گوادر

 

اپنے محل وقوع اور زیر تعمیر جدید ترین بندرگاہ کے باعث گوادر عالمی سطح پر معروف ہے۔ گوادر مکران کوسٹل ہائی وے کے ذریعے کراچی اور بلوچستان کے دیگر ساحلی شہروں سے منسلک ہے۔ یہ علاقہ وادی کلانچ اور وادی دشت بھی کہلاتا ہے اس کا بیشتر رقبہ بے آباد اور بنجر ہے۔ خان آف قلات میر نصیر خان نے یہ علاقہ شاہ مسقط کے بھائی کو تحفے میں دے دیا تھا۔ 1958ء میں مسقط نے ایک کروڑ ڈالر کے عوض گوادر اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ پاکستان کو واپس کیا۔ گوادر کو 1977ء میں ضلع کی حیثیت دی گئی۔ سنگلاخ چٹانوں اور ریتیلے علاقے کے باعث کاشتکاری ناممکن ہے۔ تھوڑی بہت کھجور کی پیداوار ہوتی ہے۔ البتہ بھیڑ بکریاں پالنا یہاں کے باسیوں کا پیشہ ہے۔ لوگوں کا زیادہ تر گزر بر مچھلی کے شکار پر ہوتا ہے۔ تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے گوادر کو تربت، آواران، خضدار اور رتو ڈیرو سے ملایا جارہا ہے۔

More Information»
All Listing Types All Locations Any Rating

Listing Results