Navigation Menu
Vehari
January 122017

وہاڑی

 

 

 

 

More Information»
Toba Tek Singh
January 122017

ٹوبہ ٹیک سنگھ

 

 

 

 

 

 

More Information»
Sialkot
January 122017

سیالکوٹ

 

ضلع سیالکوٹ کھیلوں کے سامان بنانے کی صعنت کے حوالے سے دنیا بھر میں مقبول ہے۔ یہاں کے بنے کرکٹ کے گیند، بیٹ اور فٹ بال کی پوری دنیا میں مانگ ہے۔ یہاں کی زرخیز دھرتی نے بہت سے نامور لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ علاقمہ اقبال اور فیض احمد فیض اسی دھرتی کے بیٹے ہیں۔ رنز بنانے کی مشین ظہیر عباس، ہاکی کی دنیا کے مانے ہوئے سینئر فارورڈ شہناز شیخ، مشہور صحافی کلدیب نائر، رامائن والے نریندر کوہلی، راجندر سنگھ بیدی، ذوالفقار غوث، وحید مراد، راجندر کمار، سر ظفر اللہ خان اور تیرہ دن کے بھارتی وزیر اعظم گلزاری لعل نندا یہیں پیدا ہوئے تھے۔ نجی بین الاقوامی ایئر پورٹ کا قیام پاکستان میں صرف سیالکوٹ کا اعزاز ہے۔ انتظامی طور پر ضلع سیالکوٹ کو چار تحصیلوں سیالکوٹ، ڈسکہ، پسرور اور سمبڑیاں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ برطانوی راج کے دوران 1849ء میں یہاں فوجی چھائونی بناکر اسے ریل سے منسلک کردیا گیا تھا۔

More Information»
Sheikhupura
January 122017

شیخوپورہ

 

شیخوپورہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کا صدر مقام ہے۔ پہلے یہ گوجرانوالہ کی تحصیل تھا، 1922ء میں اسے ضلع کی حیثیت مل گئی۔ لاہور، ننکانہ صاحب، حافظ آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور نارووال کے اضلاع میں گھرے اس ضلع کی سرحد مشرق میں بھارتی پنجاب سے بھی ملتی ہے۔ انتظامی طور پر اسے شیخوپورہ، مرید کے ، شرقپور، فیروز والا اور صفدر آباد کی تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شہنشاہ اکبر اپنے بیٹے جہانگیر کو شیخو کے نام پر پکارتا تھا، شیخو شکار کا شوقین تھا، یہ علاقہ شکار کے لیے موزوں ملا تو بادشاہ نے یہاں قلعہ بنوادیا اور شیخو کے نام پر اسے شیخوپور کہا جانے لگا۔ شکار کے دوران جہانگیرکے اپنے ہاتھوں اس کا پالتو ہرن منس راج مارا گیا تو اس نے اس کی یاد میں یادگار ہرن مینار بنادیا جو آج علاقے کے لوگوں کے لیے تفریح گاہ ہے۔ پنجابی زبان میں شیکسپیئر کہلانے والے شاعر وارث شاہ نے اپنی مشہور لوک داستان ہیر رانجھا شیخوپورہ کے گائوں جنڈیالہ شیرخاں میں مکمل کی تھی۔ درگاہ عالیہ شرقپور اس علاقے میں روحانیت کا منبع ہے۔ شرقپور کے کوزے میں بنے رس گلے اپنی مثال آپ ہیں۔ شیخوپورہ زرخیز علاقہ اور پاکستان کا ایک بڑا صنعتی حب ہے۔ شیخوپورہ سے لاہور اور فیصل آباد تک حد نظر صنعتوں کا جال نظر آتا ہے، جن میں ٹیکسٹائل انڈسٹری سرفہرست ہیں۔

More Information»
Sargodha
January 122017

سرگودہا 

 

 

 

 

 

 

 

 

More Information»
Rawalpindi
January 122017

راولپنڈی

 

زندگی کے تمام رنگوں سے بھرپور راولپنڈی پنجاب کے بڑے اور اہم اضلاع میں سے ایک ہے جہاں ہر زبان بولنے والے اور ملک کے کونے کونے سے آئے لوگ آباد ہیں۔ یہ اسلام آباد، اٹک، جہلم، چکوال، مری اور ایبٹ آباد کے اضلع سے متصل ہے۔ ضلع کے شہری علاقوں میں کاروبار عروج پر ہے جبکہ دیہی علاقوں زرعی سرگرمیاں لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی کا باعث۔ راولپنڈی شہر کی مرکزی شاہراہ ’’مری روڈ‘‘ کاروباری اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز ہے تو شہر کے بیچوں بیچ سے گزرنے والا ’’نالہ لئی‘‘ برسات میں بپھر کر لوگوں کے لیے وبال جان بن جاتا ہے۔ ریاست کے اہم ستون فوج کا جنرل ہیڈکوارٹرز یعنی جی ایچ کیو یہیں واقع ہے جہاں فوج کے سپہ سالار کا دفتر ہے۔ سیاسی جلسے جلوسوں کے لیے مشہور لیاقت باغ مری روڈ پر واقع ہے جہاں اکتوبر 1951ء میں ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو گولی مار کر قتل کیا گیا اور دسمبر 2007ء کو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز رکھنے والی بے نظیر بھٹو کی بم دھماکے میں جان لے لی گئی۔ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو بھی اسی شہر میں پھانسی پر چڑھایا گیا تھا۔

 

Gujar Khan

By Tahseen Ali

https://m.facebook.com/tahseen.ali.5667?ref=bookmarks

Gujar Khan

By Tahseen Ali

https://m.facebook.com/tahseen.ali.5667?ref=bookmarks

Gujar Khan

By Tahseen Ali

https://m.facebook.com/tahseen.ali.5667?ref=bookmarks

More Information»
Rajanpur
January 122017

راجن پور

 

پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے سنگم پر واقع ضلع راجن پور چند بڑے خاندانوں کی ’’جاگیر‘‘ ہے جو انہیں انگریزوں نے عطا کی تھی۔ ہشت زبان صوفی شاعر خواجہ غلام فرید کا مزار اسی ضلع کے قدیم شہر کوٹ مٹھن میں واقع ہے۔ راجن پور کا صحت افزا مقام ’’ماڑی‘‘ نہایت زیادہ ٹھنڈا، دلکش اور خوبصورت ہے۔ سیلاب اور بارش کے دنوں میں ایک طرف سے دریائے سندھ علاقے کو تباہ کرتا ہے تو دوسری جانب کوہ سلیمان سے اترنے والی رود کوہیوں کا ریلہ سونامی کی طرف مجبور اور بے خبر لوگوں کو آلیتا ہے۔ اس کے باوجود ضلع میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے۔ نہریں ششماہی اور بیشتر علاقوں کا زیر زممین پانی کڑوا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے کھیتوں اور کھلیانوں میں بھوک اگتی ہے اور کسان غربت کی فصل کاٹتا ہے۔ یہاں مضبوط پنچائتی نظام رائج ہے۔ ملزم کو کبھی ’’میر صاحب‘‘ کی ’’مقدس دیوار‘‘ کی جانب منہ کرکے قسم کھانا پڑتی ہے تو کبھی آگ سے گزر کر اپنے بے گناہی ثابت کرنا ہوتی ہے۔

More Information»
Pakpattan
January 122017

پاکپتن

 

صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکرؒ کا شہر پاکپتن نیلی بار کے علاقے میں واقع ہے۔ زرعی لحاظ سے اہم ضلع کو نہریں سیراب کرتی ہیں۔ ضلع پاکپتن، ساہیوال، اوکاڑہ، بہاولنگر اور وہاڑی کے اضلاع سے جڑا ہوا ہے۔ یہ شہر اپنی تاریخی حیثیت کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کا نام مغل بادشاہ اکبر اعظم نے بابا فرید کے نام پر پاکپتن رکھا تھا۔ بابا فرید کے مزار کا بہشتی دروازہ پانچ محرم کو کھولا جاتا ہے۔

More Information»
Okara
January 122017

اوکاڑہ

 

لاہور سے تقریباً 120 کلو میٹر دور اوکارہ کو جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے بسایا تھا۔ اس کا نام یہاں بڑی تعداد میں اگنے والے درخت ’’اوکاں‘‘ کے نام پر اوکاں واڑہ رکھا گیا تھا جو وقت کے ساتھ اوکاڑہ ہوگیا۔ نیلی بار کے علاقے میں شامل یہ ضلع زراعت اور لائیو اسٹاک کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ فوج کے زیر انتظام زرعی فارموں میں ہزاروں کسان کام کرتے ہیں جو کافی عرصے سے مالکانہ حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ بلوچوں کے جد امجد چاکر اعظم کا مزار بھی اسی شہر میں واقع ہے۔

More Information»
Nankana Sahib
January 122017

ننکانہ صاحب

 

 

 

More Information»
Narowal
January 122017

نارووال

 

راوی کنارے آباد نارووال چاول کی پیداوار کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے۔ یہ ضلع بھارت کے ضلع گورداسپور اور ضلع امرتسر کی سرحدوں کو چھوتا ہے۔ دریائے راوی اس کے جنوب مشرق میں بہتا ہے۔ شمال میں ریاست جموں و کشمیر کا علاقہ، شمال مشرق میں ضلع سیالکوٹ جبکہ جنوب مشرق میں ضلع شیخوپورہ کا کچھ حصہ ہے۔ اسے یکم جولائی 1991ء کو سیالکوٹ سے الگ کرکے ضلع کا درجہ دیا گیا تھا۔ شکر گڑھ، نارروال اور ظفر وال اس کی تحصیلیں ہیں۔ اس کا نام سکھ لینڈ لارڈ نارو سنگھ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ یہیں پر سکھوں کے روحانی پیشوا جگت گورونانک جی کا انتقال ہوا تھا۔ انہی کے نام سے یہاں ایک گائوں ڈیرہ نانک بابا بسایا گیا تھا۔ جموں سے آنے والے نالہ ڈیک اور نالہ ایک برسات کے موسم میں بڑی تباہی مچاتے ہیں۔ برسات کے بعد یہاں موجود پانی کے بڑے بڑے تالاب سارا سال فصلوں کو سیراب کرنے کا بھی کام دیتے ہیں۔

More Information»
Muzaffargarh
January 122017

مظفر گڑھ

 

ملتان سے 25 منٹ کی دوری پر واقع یہ ضلع زرعی اور صنعتی لحاظ سے اہم ہے۔ سرائیکی یہاں کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے تاہم اس کا لہجہ ملتان والی سرائیکی سے کچھ مختلف ہے۔ ملتان کے علاوہ یہ لیہ، ڈیرہ غازی اور راجن پور کے اضلاع سے جڑا ہے۔ مظفر گڑھ میں جنگلات ہیں تو تھل کا وسیع صحرا بھی اس کا حصہ ہے جبکہ بیٹ کی زرخیز زمینوں پر سال بھر فصلیں لہراتی ہیں۔ یہاں بڑی تعداد میں صنعتی یونٹ اور بجلی بنانے والے کارخانے ہیں۔ سندھ اور چناب کے درمیان واقع یہ ضلع سیلاب کے دنوں میں دو دریائوں کی مار سہتا ہے۔ خان گڑھ، شہر سلطان، سیت پور، جتوئی، رنگ پور، قصبہ گجرات، محمود کوٹ، کوٹلہ لغاری، سناواں، بصیرہ، دائرہ دین پناہ، چوک منڈا، شاہ جمال، کرم داد قریشی وغیرہ اہم شہر ہیں۔

More Information»
Multan
January 122017

ملتان

 

گرد، گرما، گدا اور گورستان پانچ ہزار برسوں سے ملتان کی پہچان ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد لوکل اور مہاجر کہلائی جانے والی قومیتوں نے مل کر نئے شہر کی تعمیر کی ہے۔ پرانا شہر آج بھی فصیل میں موجود ہے جبکہ جدید ملتان آزادی کے ساتھ چاروں طرف پھیل رہا ہے۔ اتنا بڑا اور قدیم شہر ہونے کے باوجود یہاں صنعت فروغ نہیں پاسکی۔ شہر کی معیشت آج بھی زراعت اور چھوٹے کاروبار نے سنبھال رکھی ہے۔ ماضی میں یہ شہر صوفیا کا محبوب مسکن رہا ہے۔ اس دوران سکندر اعظم سمیت درجنوں حملہ آوروں نے اس شہر پر چڑھائی کی، متعدد نے سالہا سال تک حکومت بھی کی لیکن نام و نشان باقی ہیں تو بس ان صوفیا کے جو یہاں پیار، محبت بانٹنے اور لوگوں کو انسانیت کا سبق دینے آئے تھے۔

More Information»
Mianwali
January 122017

میانوالی

 

 

 

 

 

 

 

 

More Information»
Mandi Bahauddin
January 122017

منڈی بہاؤ الدین

 

دریائے جہلم اور چناب کے درمیان واقع ضلع منڈی بہائو الدین پنجاب کے زرخیز اضلاع میں سے ہے۔ بیشتر لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے تاہم سمندر پار پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد بھی لوگوں کے انفرادی معاشی حالات بہتر بنانے میں معاون ہے۔ بار کے علاقے میں کنو بہت بڑے پیمانے پر کاشت کیا جاتا ہے جس کی ملک بھر میں بڑی مانگ ہے۔ دو شوگر ملوں کے علاوہ یہاں دیگر قابل انڈسٹریل نہیں ہے۔ چھوٹے یونٹوں میں فرنیچر سازی اور ٹیکسٹائل کے آلات بنائے جاتے ہیں۔ مشرق میں دریائے جہلم اسے ضلع جہلم سے جدا کرتا ہے تو جنوب میں چناب اس کے اور ضلع گوجرانوالہ کے درمیان آجاتا ہے۔ منڈی بہائو الدین کو 1506ء میں بہائو الدین گوندل نے موجودہ چک نمبر 51 کے قریب بسایا تھا۔ اس وقت اس کا نام پنڈی بہائو الدین تھا۔ اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر یہاں باہر سے آکر لوگ آباد ہونے لگے اور کچھ عرصے بعد یہ بڑا کاروباری مرکز بن گیا۔ یہاں قائم ہونے والی غلہ منڈی کی وجہ سے اسے منڈی بہائو الدین کہا جانے لگا۔ اسے 1993ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا تھا۔

More Information»
Lodhran
January 122017

لودھراں

 

ضلع لودھراں کبھی ملتان کی تحصیل ہوا کرتا تھا۔ یہ علاقہ دو دریائوں ستلج اور بیاس کے درمیان واقع ہے۔ اگرچہ اب بیاس کا تو نام و نشان مٹ گیا لیکن برسات کے دنوں میں ستلج اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ ضلع کی سرحدیں بہاولپور، وہاڑی، خانیوال اور ملتان سے ملتی ہیں۔ یہ ایک زرعی علاقہ ہے، جس میں کافی رقبے پر جنگلات بھی موجود ہیں۔ کپاس یہاں پیدا ہونے والی سب سے بڑی فصل ہے۔ اسے انتظامی طور پر تین تحصیلوں لودھراں، دنیا پور اور کہروڑ پکا میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مشہور شہروں میں لودھراں اور کہروڑ پکا شامل ہیں۔ سرائیکی ضلع میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔

More Information»
Layyah
January 122017

لیہ

 

دو دریائوں کے درمیان آباد لیہ بیٹ اور تھل کا عجیب امتزاج ہے۔ یہاں کی نصف آبادی دریا کی مار کھاتی ہے تو آدھی تھل کی سختیاں جھیلتی ہے۔ لیہ کا زیادہ تر حصہ صحرائی ہے۔ یہاں  کے باسی پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں جبکہ چناب اور سندھ کنارے آباد لوگ پانی کی زیادتی سے تنگ اور ہر وقت دریا کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں کیونکہ سیلاب نہ صرف ان کی فصلیں بلکہ گھر بار بھی بہاکر لے جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل تھی جسے 1982ء میں ضعل کا درجہ دیا گیا۔ ریتیلا علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں زیادہ تر چنے کی فصل کاشت کی جاتی ہے۔ ضلع لیہ میں سرائیکی اور پنجابی بولی جاتی ہے۔ اسے انتظامی طور پر تین تحصیلوں چوبارہ،کروڑ لعل عیسن اور لیہ میں تقسیم کیا گیا ہے۔

More Information»
Lahore
January 122017

لاہور

 

پنجابی کی ایک کہاوت ہے جس کا مفہو یوں ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ بات اس لحاظ سے سو فیصد درست ہے کہ پنجاب کے اس دل میں جتنا تنوع ہے شاید ہی کسی اور شہر میں ہو۔ یہاں صنعت نے بھی ترقی کی اور ثقافت نے بھی فروغ پایا۔ ہزاروں سال پرانا یہ شہر آج کراچی کے بعد ملک کا سب سے بڑا صنعتی مرکز ہے تو دوسری جانب یہ اپنے خوبصورت باغات کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے۔ لاہور ماضی میں بیرونی حملہ آوروں کا محبوب مقام تھا تو داتا گنج بخشؒ جیسے صوفی نے بھی یہاں ڈیرے لگائے۔ یہاں ایک طرف بھاٹی اور لوہاری کی قدیم اور تنگ بستیاں ہیں تو دوسری جانب شہر کے چاروں طرف پھیلتی جدید ہائوسنگ کالونیاں۔ راوی کنارے بسا یہ شہر پنجاب کا ہی نہیں پاکستان کا بھی دل کہلاتا ہے۔

More Information»
Khushab
January 122017

خوشاب

 

 

 

 

 

 

 

 

 

More Information»
Khanewal
January 122017

خانیوال

 

خانیوال کسی زمانے میں ملتان کی ایک تحصیل ہوا کرتا تھا۔ اسے ضلع کا درجہ ملے بھی عرصہ گزر گیا لیکن یہ اب تک اپنے پرانے ضلع کے اثر سے نہیں نکل سکا۔ تیس منٹ کی مسافت پر ہونے کی وجہ سے خانیوال آج بھی ملتان سے کاروباری اور ثقافتی رشتوں سے جڑا ہوا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد یہاں اردو بولنے والوں کی آمد کے بعد سے اس کی تہذیبی ہیئت تبدیل ہوئی ہے۔ ضلع میں کچھ صنعتیں قائم تو ہیں لیکن یہ یہاں کے لوگوں کے حالات زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکیں۔ شہر کے لوگ چھوٹے کاروبار کرتے ہیں اور دیہات میں کاشتکاری سب سے بڑا پیشہ ہے۔ جاگیردار خاندان یہاں سے پیسہ کماکر لاہور کراچی جیسے بڑے شہروں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ معاشی بدحالی کی وجہ سے شہری علاقوں میں مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسند رویئے عام ہیں۔

More Information»
Kasur
January 122017

قصور

 

 

 

More Information»
Jhelum
January 122017

جہلم

 

پنجاب کے شمال مشرقی حصے میں واقع ضلع جہلم چار تحصیلوں جہلم، سوہاوہ، دینہ اور پنڈدادنخان پر مشتمل ہے۔ افواج پاکستان میں افرادی قوت کے لحاظ سے جہلم کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد دیار غیر میں محنت مزدوری کرکے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کررہی ہے۔ برف کی سفید چادر اوڑھے کشمیر کی چوٹیاں اس علاقے کو جھانکتی نظر آتی ہیں۔ دریائے جہلم پر پاکستان کا دوسرا بڑا ڈیم منگلا بھی اسی ضعل میں واقع ہے۔ برصغیر کے حاکم شہاب الدین غوری ٹلہ جوگیاں سے متصل علاقے میں اپنے نائب کے ساتھ مدفون ہیں۔ میزائل ٹیسٹ رینج بھی اسی علاقے کا حصہ ہے۔ شیرشاہ سوری نے جب یہاں سے جرنیلی سڑک گزاری تو دفاعی نقطہ نظر کے تحت قلعہ روہتاس بھی بنوایا تھا، جو آج بھی اپنی عظمت رفتہ کی یاد دلاتا ہے۔

More Information»
Jhang
January 122017

جھنگ

 

جھنگ کی شناخت مختلف زبانوں میں ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں کی عشقیہ داستانوں، قبائلی سورمائوں کے بہادرانہ قصوں، لوک رقص اور گیتوں کے حوالے سے رہی ہے لیکن پھر فرقہ وارانہ تشدد اور فسادات اس شہر کی پہچان بن گئے۔ دریائے چناب اور دریائے جہلم کے سنگم میں واقع اس ضلع کے مغرب میں تھل کا صحرائی علاقہ ہے جو دریائے جہلم کے کنارے سے شروع ہوتا ہوا خوشاب اور بھکر کے اضلاع تک جاتا ہے۔ جھنگ کی مقامی زبان اپنی ایک پہچان رکھتی ہے۔ اس مخصوص لہجے کے لیے جانگلی، جھنگوچی یا جھنگوی کی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں۔ پنجابی اور سرائیکی تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے لسانی طور پر اس لہجے کی شناخت دونوں بڑی علاقائی زبانوں کے درمیان معلق ہے۔ حضرت سلطان باہوؒ، حضرت شاہ جیونہؒ، شاہ صادق نہنگؒ، ہاتھیوان سلطانؒ، نور شاہؒ، حضرت پیر عبدالرحمنؒ، دربار مائی باپؒ، حضرت تاج الدینؒ اٹھارہ ہزاری، پاکھرا سلطانؒ، شیخ علیؒ، پیر کوٹ سدھانہ میں پیرپگارا کے مرشد و دیگر اولیا کرام کے مزار ضلع بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔

More Information»
Hafizabad
January 122017

حافظ آباد

 

ضلع حافظ آباد 1991ء سے پہلے ضلع گوجرانوالہ میں شامل تھا۔ دریائے چناب اس کو ضلع منڈی بہائو الدین سے جدا کرتا ہے۔ حافظ آباد اور پنڈی بھٹیاں اس کی تحصیلیں ہیں۔ اس کی سرحدیں سات اضلاع منڈی بہائو الدین، سرگودھا، جھنگ، فیصل آباد، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ سے ملتی ہیں۔ وسطی پنجاب کے زرعی علاقوں میں شامل یہ ضلع چاول کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے بھی یہاں چاول کی بہت بڑی منڈی ہوا کرتی تھی۔ کاٹن پاور لومز یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔ یہ صنعت فیصل آباد کے تاجروں کے ساتھ منسلک ہے۔

More Information»
Gujrat
January 122017
Gujranwala
January 122017

گواجرانوالہ

 

جرنیلی سڑک پر واقع ضلع گوجرانوالہ شمالی پنجاب کا اہم صنعتی اور کاروباری مرکز ہے، یہاں چھوٹی صنعتوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ اس کی تحصیل کامونکی چالوں کی سب سے بڑی منڈی ہے، جہاں دنیا کا بہترین اور خوشبودار چاول پیدا ہوتا ہے۔ تحصیل وزیر اباد کٹلری کے سامان کی وجہ سے مشہور ہے۔ سرامکس کا سامان، پنکھا سازی اور واشنگ مشینیں بھی اس شہر کی اہم شناخت ہیں۔ کشمیری دال چاول یہاں کا من بھاتا کھاجا ہے جبکہ گوجرانوالہ کے’’چڑے‘‘ لوگ دور دور سے کھانے کے لیے آتے ہیں۔ آج کا وسیع و عریض ضلع گوجرانوالہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دادا چرت سنگھ نے بسایا تھا۔ انگریز سرکار نے 1847ء میں اسے لاہور سے الگ کرکے ضلع کی حیثیت دی تھی۔

 

By Tahseen Ali
https://m.facebook.com/tahseen.ali.5667?ref=bookmarks

More Information»
Faisalabad
January 122017

فیصل آباد

 

پاکستان کا صنعت کے اعتبار سے دوسرا بڑا فیصل آباد کم و بیش سو سال پہلے مویشی پالنے والوں کا گڑھ تھا۔ لوگوں کی بڑی تعداد اب بھی زراعت سے منسلک ہے تاہم صنعتیں روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ یہاں ہر طرف ٹیکسٹائل ملز اور پاور لومز کا جال بچھا ہوا ہے جن کی وجہ سے یہ شہر پاکستان کا مانچسٹر کہلاتا ہے جہاں زیر زمین پانی شور زدہ ہے۔ صاف پانی کے حصول کے لیے لوگوں کو نجی اداروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اسے انگریز گورنر لیفٹیننٹ جنرل سرجیمز بی لائل نے بسایا تھا جس کی وجہ سے یہ طویل عرصے تک لائلپور کہلاتا  رہا لیکن 1985ء میں اس کا نام سعودی عرب کے شاہ فیصل بن عبدالعزیز السعود کے نام پر فیصل آباد کا نام دیا گیا۔ انگریزوں نے اس کے آٹھ بازاروں کو اپنے پرچم (یونین جیک) کی طرز پر تعمیر کیا تھا جو تمام کے تمام گھنٹہ گھر سے جڑے ہیں۔ اسی لیے فیصل آباد کا گھنٹہ گھر اپنے طرز تعمیر اور تاریخی اہمیت سے بڑھ کر اب محاورہ بن چکا ہے۔ نامور موسیقار اور گلوکار نصرت فتح علی خان کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔

 

 

More Information»
Dera Ghazi Khan
January 122017

ڈیرہ غازی خان

 

 

 

 

 

 

 

 

More Information»
Chiniot
January 122017

چنیوٹ

 

جھنگ سے متصل فیصل آباد، سرگودھا روڈ پر ضلع چنیوٹ واقع ہے۔ پہلے یہ ضلع جھنگ کا حصہ تھا اب انتظامی لحاظ سے اسے علیحدہ ضلع کی حیثیت دے دی گئی۔ چنیوٹ میں تیار ہونے والا فرنیچر دنیا بھر میں مشہور ہے۔ احمدی جماعت کا مرکز ربوہ اسی ضلع میں ہے، تاہم اب ربوہ کا نام چناب نگر رکھ دیا گیا ہے۔ دریا کے بیچوں بیچ روحانی شخصیت بوعلی شاہ کی چلہ گاہ آج بھی موجود ہے۔

More Information»
Chakwal
January 122017

چکوال

 

چکوال پوٹھوہار کا بارانی علاقہ اور تیل، گیس اور کوئلے کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ زراعت نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر لوگ فوج میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ضلع کا شاید ہی کوئی گھر ہو جس میں سابق یا حاضر فوجی موجود نہ ہو۔ چکوال کے صوبیدار خداداد خان کو تاج برطانیہ نے وکٹوریہ کراس سے نوازا تھا۔ برطانوی فوج کے پہلے ہندوستانی جنرل محمد اکبر خان کا تعلق بھی چکوال سے تھا۔ چکوال کا نام میر منہاس قبیلے کے سردار چوہدری چاکو خان کے نام پر رکھا گیا تھا۔ دودھ سے تیار ہونے والا حلوہ یہاں کی مشہور سوغات ہے۔ سرسبز پہاڑوں میں گھرا سیاحتی علاقہ کلرکہار موٹروے کے بالکل ساتھ موجود ہے جہاں مور ناچتے ہیں تو سب دیکھتے ہیں۔ چکوال شہر سے 25 کلو میٹر کی مسافت پر سلسلہ کوہ نمک میں ہندوئوں کے مقدس مقام کٹاس راج کے کھنڈرات موجود ہیں۔ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق کٹاس تالاب شیو دیوتا کے آنسوئوں سے بنا تھا، جو اس نے اپنی بیوی کی موت پر بہائے تھے۔

More Information»
Bhakkar
January 122017

بھکر

 

صحرا تھل کے بیچوں بیچ واقع ضلع بھکر دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر واقع ہے۔ بیشتر آبادی مزدوری اور زراعت سے منسلک ہے۔ معاشی اعتبار سے بھکر ایک پسماندہ ضلع تصور کیا جاتا ہے لیکن چنا، گندم اور گنا یہاں کی بڑی فصلیں ہیں۔ گریٹر تھل کینال کبھی کبھار اس علاقے کو سیراب کرتی ہے۔ ضلع میں صدیوں سے بھائی چارے کی فضا تھی لیکن دریا پار کے ہمسایہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ منافرت کے منحوس سائے اس ضلع پر بھی بڑے ہیں۔ تھل کے خودرو جنگل میں تلور کثرت سے پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ علاقہ عرب شکاریوں کی پسندیدہ جگہ بن گیا ہے۔

More Information»
Bhawalpur
January 122017

بہاولپور

 

ماضی کی ریاست اور آج کے ضلع بہاولپور میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ریاست بہاولپور میں رحیم یار خان اور بہاولنگر کے علاقے بھی شامل تھے جو آج اس سے دور ہوچکے ہیں۔ یہاں کبھی دریائے ستلج بہتا تھا مگر سندھ طاس معاہدے کے بعد اس کا پانی بھارت کے حصے میں آگیا اب یہاں دریا کا کنارہ ہے، نشیب ہے اور سانپ کی طرح بل کھاتا راستہ باقی رہ گیا ہے لیکن پانی نہیں ہے۔ چولستان کی پیاسی زمین سیلابی پانی سے ہی سیراب ہوتی ہے۔ ریاست بہاولپور کی بنیاد 1690ء میں بہادر خان دوئم نے رکھی تھی اور 1947ء کے بعد اس خود مختار ریاست کا پاکستان سے الحاق ہوگیا تھا۔ ڈیرہ نواب صاحب میں موجود صادق گڑھ پیلس ضلع کی سیاست کا محور و مرکز سمجھا جاتا ہے تو فرید گیٹ بہاولپور شہر کا گھنٹہ گھر ہے۔ ایک طرف چولستان کا صحرا اپنا حسن بکھیرتا نظر آتا ہے جو دوسری طرف لال سوہانرا وائلڈ لائف پارک یہاں کی شناخت ہے۔ قلعہ دراوڑ بھی ایک طرف کھڑا عظمت رفتہ کی داستان سناتا نظر آتا ہے۔

More Information»
Bhawalnagar
January 122017

بہاولنگر

 

پنجاب کے دور افتادہ اور نہایت ہی پساندہ ضلع بہاولنگر پانچ تحصیلوں ہارون آباد، فورٹ عباس، منچن آباد، بہاولنگر اور چشتیاں پر مشتمل ہے۔ اس کے شمال میں دریائے ستلج کے اس پارضلع پاکپتن، مغرب میں ضلع وہاڑی، جنوب میں بھارتی ریاست بیکانیر اور مشرقی پنجاب کا ضلع فیروز پور اور جنوب میں ضلع بہاولپور واقع ہے۔ ضلع بہاولنگر چونکہ بنیادی طور پر صحرائے چولستان کا حصہ ہے، اس وجہ سے زیر زمین پانی قطعی طور پر ناقابل استعمال ہے۔ نہریں ہی زرعی معیشت کا پہیہ چلا رہی ہیں۔ ریت کے جن ٹیلوں کو محنت سے سرسبز و شاداب کھیتوں کی صورت دی گئی تھی، پانی کی قلت کی وجہ سے دوبارہ صحرا میں تبدیل ہورہے ہیں۔ تھوڑی بہت جنگلات تھے وہ بھی ٹمبر مافیا کی نذر ہوگئے۔ صنعتوں کے قیام کا عوامی مطالبہ ہمیشہ بھارتی سرحد قریب ہونے کا جواز بناکر دبا دیا گیا تاہم یہ علاقہ عرب شکاریوں کے لیے پسندیدہ جگہ ہے۔ انگریز نے ایک صدی پہلے یہاں ریلوے نظام قائم کیا تھا لیکن اب کوئی بھی ایکسپریس ٹرین بہاولنگر ریلوے اسٹیشن کا رخ نہیں کرتی۔

More Information»
Attock
January 122017

اٹک

ضلع اٹک پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر دریائے سندھ کے کنارے آباد ہے۔ انتظامی تقسیم کے مطابق یہ پنجاب کا پہلا ضلع ہے جسے دریائے کابل اور دریائے سوات صوبہ خیبر پختونخوا سے الگ کرتے ہیں۔ یہ دونوں دریا اسی شہر میں یک کا ہوجاتے ہیں۔ ضلع کی سرحدیں ضلع راولپنڈی، میانوالی اور چکوال سے ملتی ہیں۔ اسے برطانوی حکومت نے بطور چھائونی آباد کیا تو اس کی بنیاد رکھنے والے سرکولن کیمبل کے نام پر کیمبل پور رکھا گیا۔ 1904ء میں اسے ضلع جہلم سے الگ کرکے ضلع کا درجہ دیا گیا تھا۔ اٹک کا مشہور قلعہ اکبر اعظم نے اس وقت بنوایا جب وہ اپنے سرکش سوتیلے بھائی مرزا حکیم کو شکست دینے کے بعد کابل سے واپس آرہا تھا۔ اس قلعہ پر مرہتے اور سکھ قابض رہے، آج یہ فوج کے زیر انتظام ہے۔ قلعے میں بہت بڑی جیل ہے جہاں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو قید رکھا گیا۔ سکھ مذہب کی عبادت گاہ گوردوارہ پنجہ صاحب ضلع اٹک کے شہر حسن ابدال میں واقع ہے۔ حسن ابدال، فتح جنگ، جنڈ، حضرو اور پنڈی گھیب اس کی تحصیلیں ہیں۔ ضلع اٹک میں عمومی طور پر پشتو، ہندکو، اردو، انگریزی، پنجابی وغیرہ بولی جاتی ہیں۔ پاکستان کی طیارہ ساز فیکٹری کامرہ بھی اسی شہر میں واقع ہے۔ یہاں کی 90 فیصد آبادی دیہی ہے اور لوگ کاشتکاری سے منسلک ہیں۔ تحصیل پنڈی گھیب کے گائوں ڈھلیاں میں تیلس اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

More Information»
Sahiwal
January 122017

ساہیوال

 

 

 

 

 

 

 

 

Intel Digital Camera

 

 

More Information»
Rahim yar khan
January 122017

رحیم یار خان

 

ضلع رحیم یار خان جنوبی پنجاب کا اہم تجارتی اور کاروباری مرکز ہے۔ دریائے سندھ کے قریب ہونے کی وجہ سے یہ ضلع پنجاب کے زرخیز زمین خطوں میں سے ہے۔ بیشتر لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے۔ سفید سونا (کپاس) اور میٹھے رسیلے آم علاقے کی پہچان ہے۔ یہاں خطہ کے دیگر اضلاع کی نسبت کاروبار کے زیادہ مواقع ہونے کی وجہ سے دیگر شہروں سے لوگوں کی نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ضلع میں چولستان کا وسیع و عریض صحرا بھی ہے، جو بھارتی علاقے جیسلمیر تک جاتا ہے۔ اس کی چار تحصیلیں خان پور، لیاقت پور، صادق آباد اور رحیم یار خان ہیں۔ خانپور اس ضلع کا قدیم علاقہ ہے جہاں کا کچا کھویا مشہور سوغات ہے۔ ججہ عباسیاں کی کھجور کی ملک بھر میں مانگ ہے۔ شکار کی غرض سے آنے والے متحدہ عرب امارات کے حکمران شیخ زید بن سلطان النہیان کو اس علاقے سے خاص محبت تھی۔ انہوں نے یہاں کافی ترقیاتی کام کرائے تو اپنے لیے بڑے بڑے محل بھی تعمیر کرائے۔ چولستان عرب شہزادوں کی پسندیدہ شکار گاہ ہے۔

More Information»
All Listing Types All Locations Any Rating

Listing Results