Navigation Menu
Karachi
January 142017

کراچی

 

عبداللہ شاہ غازی کی سرزمین اور بانی پاکستان کا جائے پیدائش، کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز اور صوبہ سندھ کا دارالحکومت ہے۔ کراچی 1947ء سے 1960ء تک پاکستان کا دارالحکومت رہا۔ آج کے کراچی کی جگہ پر پہلے ماہی گیروں کی بستی کولاچی جو گوٹھ تھی۔ عرب اسے دیبل کے نام سے پکارتے تھے۔ 1772ء میں سہر کے گرد فصیل بنادی گئی جس کے دو دروازے تھے۔ سمندر کی طرف کھلنے والے دروازے کو کھارادر اور لیاری ندی کی طرف والے دروازے کو میٹھادر کہا جاتا تھا۔ یہ علاقے آج بھی موجود ہیں۔ ضلع میں یہاں مختلف مذہبی، نسلی اور لسانی گروہ آباد ہیں۔ ان گروہوں کی باہمی کشیدگی کی وجہ سے یہ شہر لسانی فسادات، تشدد اور دہشت گردی کا شکار ہے۔ کراچی بندرگاہ اور محمد بن قاسم بندرگاہ پاکستان کی دو اہم ترین بندرگاہیں ہیں۔ یہاں بلند و بالا عمارتوں کے ساتھ ساتھ قدیم فن تعمیر کے نمونے بھی جابجا نظر آتے ہیں۔ کراچی ساحل کے ساتھ نیم صحرائی علاقہ ہے، ملیر اور لیاری ندیوں سے ملحقہ علاقوں میں کچھ زمین قابل کاشت ہے، جن پر تھوڑی بہت سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔ کراچی کو اب انتظامی طور پر چھ اضلاع میں تقسیم کر دیا گیاہے۔

 

More Information»
Ghotki
January 122017

گھوٹکی

 

درگاہوں اور مندروں کا گھوٹکی بالائی سندھ کا پہلا ضلع ہے۔ ملک کی مشہور درگاہ بھرچونڈی شریف کے علاوہ یہاں ہندوئوں کی دو بڑی گدیاں شدھانی دربار اور سچے سترام داس کا دربار بھی ہے۔ پچھلے چند سال سے یہ ضلع ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرنے کے واقعات کی وجہ سے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ رنکل کماری کامقدمہ نہ صرف سپریم کورٹ تک پہنچا بلکہ اس پر پارلیمنٹ میں بھی کافی بحث ہوئی۔ ان واقعات کے بعد بہت سے ہندو یہاں سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ ضلع میں گیس کے وسیع ذخائر ہیں اور کئی کھاد فیکٹریاں کام کررہی ہیں۔ گھوٹکی کا ایک بڑا علاقہ جنگلات پر مشتمل ہے، جہاں عرب حکمران شکار کھیلنے آتے ہیں۔

More Information»
Jacobabad
January 122017

جیکب آباد

سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر واقع جیکب آباد کبھی خان گڑھ کے نام کا چھوٹا سا علاقہ ہوا کرتا تھا بعد میں انگریز جنرل جان جیکب کے نام سے موسوم ہوکر جیکب آباد بن گیا۔ بلوچستان کو سندھ سے ملانے والا اہم راستہ یہیں سے ہوکر گزرتا ہے۔ جیکب آباد پاکستان کے گرم ترین خطے میں واقع ہے جہاں موسم گرما میں درجہ حرارت 52 درجہ سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرجاتا ہے۔ جیکب آباد کی شہباز ایئر بیس پاک فضائیہ کے زیر انتظام ہے لیکن یہاں سے مسافر پروازیں بھی چلائی جاتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران یہ اڈہ کافی عرصے تک امریکا کے پاس رہا تاہم جمہوری حکومت نے اسے پھر سے ایئر فورس کے حوالے کردیا۔

More Information»
Shikarpur
January 122017

شکارپور

 

ذائقے دار مٹھائیوں اور اچار کا نام لیا جائے تو شکارپور ذہن میں آتا ہے۔ ضلع میں بڑے پیمانے پر اچار کا کاروبار ہوتا ہے۔ ڈھک والی بازار اہم جگہ ہے جہاں گرمی سے بچنے کیلیے پورے بازار کو لکڑی سے ڈھک دیا گیا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے یہ ضلع سندھ کا اہم تجارتی مرکز تھا۔ یہاں کے تاجر وسط ایشیا، ایران اور افغانستان کے بیوپاریوں سے کاروبار کرتے تھے۔ معروف سندھی شاعر سامی اور شیخ ایاز اسی ضلع میں پیدا ہوئے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے یہ ضلع قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے بدنام ہے۔

More Information»
Larkana
January 122017

لاڑکانہ

 

لاڑکانہ کا نام آتے ہی دماغ میں بھٹوز کے چہرے آجاتے ہیں۔ پچھلے 40، 50 سال سے یہی اس ضلع کی پہچان ہیں۔ ملک کی تاریخ میں اس ضلع کو سیاسی استعارے کی حیثیت حاصل ہے۔ بھٹوز کے مرنے کے بعد یہاں کا چھوٹا سا گائوں گڑھی خدا بخش اب ملکی سیاست کا محور ہے جہاں ذوالفقار علی بھٹو، ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو ابدی نیند سو رہے ہیں۔ ہر سال 4 اپریل اور 27 دسمبر کو یہاں لاکھوں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا سب سے بڑا مرکز موئن جودڑو یہیں واقع ہے۔

More Information»
Sukkur
January 122017

سکھر

 

سکھر سندھ کے اہم تجارتی مراکز میں سے ایک ہے۔ یہ ضلع گھوٹکی، شکاپور اور خیرپور کے اضلاع میں گھرا ہوا ہے۔ دریائے سندھ کنارے آباد سکھر کی معیشت کا تمام انحصار زراعت پر ہے۔ یہاں کا صنعتی علاقہ بالائی سندھ کی صنعتی ضروریات پوری کرتا ہے۔ دریائے سندھ پر قائم سکھر بیراج سندھ کے نہری نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قینچی والا پل، ایوب برج اور معصوم شاہ کا مینار یہاں کے اہم مقامات ہیں۔ دریا کے وسط میں بکھر کا جزیرہ ہے۔ اسے سادبیلا بھی کہتے ہیں جہاں ہندوئوں کا مندر ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جتنی دفعہ بھی سیلاب آیا اس مندر کو کبھی نقصان نہیں پہنچا۔ سکھر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ میں کشتیوں کے ذریعے بھی سفر کیا جاتا ہے۔ اس کی تحصیل پنو عاقل اپنے گھوڑوں اور فوجی چھائونی کی وجہ سے مشہور ہے۔

More Information»
Qambar Shahdadkot
January 122017

 قمبر شہداد کوٹ

 2005

میں اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے ضلع قمبر شہداد کوٹ تشکیل دیا۔ قمبر علی خان اور شہداد کوٹ چھ برس پہلے ضلع لاڑکانہ کی ہی دو تحصیلیں تھیں۔ اس کا نام شہداد کوٹ ایٹ قمبر رکھا گیا جب قمبر کے باسیوں نے شہداد کوٹ کو ضلع بنانے کے خلاف مظاہرے کیے تو حکومت نے نئے ضلع کا نام قمبر شہداد کوٹ رکھ دیا جس کا صدر مقام قمبر شہر ہے۔

More Information»
Khairpur
January 122017

خیر پور

 

 

 

 

 

 

 

More Information»
Naushahro-Feroz
January 122017

نوشہروفیروز

 

 

More Information»
Dadu
January 122017

دادو

 

لعل شہباز قلندر کا ضلع دادو مختلف قومیت کے لوگوں کا گھر اور قوم پرست تحریکوں کا گڑھ ہے۔ اس کے مشرق میں کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ اسے بلوچستان سے جدا کرتا ہے۔ شمال میں ضلع لاڑکانہ، مشرق میں ضلع نوشہرو فیروز اور جنوب میں نیا ضلع جامشورو واقع ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی جھیل منچھر جھیل بھی اسی ضلع میں واقع ہے۔

More Information»
Nawabshah
January 122017

نواب شاہ

 

ضلع نواب شاہ سخت گرمی اور رسیلے آموں کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے۔ یہ ضلع پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا آبائی گھر بھی ہے۔ بیشتر لوگ زراعت سے وابستہ ہیں تاہم دریائے سندھ میں پانی کی کمی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد حکومت نے ضلع کا نام شہید بے نظیر آباد رکھا تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ریکارڈ میں اس کا نام اب تک نواب شاہ ہی لکھا جارہا ہے جس کی وجہ سے اس کتاب میں بھی ضلع کا پرانا نام تحریر کیا گیا ہے۔

More Information»
Sanghar
January 122017

 

 

 

 

 

 

 

More Information»
Mitiari
January 122017

 مٹیاری

ضلع مٹیاری کو سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کی وجہ سے اہم مقام حاصل ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی ضلع مٹیاری کے علاقے ہالہ میں پیدا ہوئے۔ ہالا میں مخدوم نوح کی درگاہ بھی ہے۔ مٹیاری میں نقشیں برتن اور ظروف اہم گھریلو صنعت ہیں۔

More Information»
Jamshoro
January 122017

جام شورو

درسگاہوں کا مرکز ضلع جامشورو 2004ء تک دادو کا حصہ تھا۔ معروف قوم پرست رہنما جی ایم سید کا آبائی علاقہ سن بھی ضلع جامشورو میں ہے۔ دریائے سندھ کا ڈیلٹا علاقہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ رانی کوٹ کا قلعہ سیاحوں کے لیے آج بھی کشش کا باعث ہے۔ جامشورو پاور ہائوس، لاکھڑا پاور ہائوس اور کوٹری تھرمل پاور ہائوس بھی اسی علاقے میں ہیں۔

More Information»
Tado-Allahyar
January 122017

ٹنڈوالٰہ یار

 

ضلع ٹنڈوالٰہ یار زرعی علاقہ ہے۔ یہاں پیرشیوا مندلی کا مندر بھی ہے جہاں ہر سال ہندو یاتری ہاتھوں میں سفید جھنڈے لے کر ٹولیوں کی صورت میں آتے اور اپنی مرادیں پوری کرتے ہیں۔

More Information»
Mirpur Khas
January 122017

میر پور خاص

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

More Information»
Umerkot
January 122017

عمر کوٹ

 

 

 

 

More Information»
Tharparkar
January 122017

تھرپارکر

 

 

 

 

 

 

 

More Information»
Hyderabad
January 122017

حیدرآباد

 

سندھ کا دوسرا بڑا ضلع حیدرآباد اپنی خوبصورت شاموں اور دیدہ زیب رنگا رنگ چوڑیوں کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے۔ دن بھلے کتنا ہی گرم ہو یہاں شام کو چلنے والی ٹھنڈی ہوا گرمی کو ہوا کردیتی ہے۔ یہاں بننے والی کانچ کی نازک چوڑیاں ملک بھر کی مانگ پورا کرتی ہیں۔ حیدرآباد کی بنیاد 1768ء میں میاں غلام شاہ کلہوڑو نے رکھی تھی۔ اس سے پہلے یہ نیرون کوٹ کے نام سے مچھیروں کی چھوٹی سی بستی ہوا کرتا تھا۔ اضلاع کی حالیہ تقسیم سے قبل مٹیاری اور ٹنڈوالٰہ یار بھی ضلع حیدرآباد کا حصہ تھے جنہیں 2005ء میں علیحدہ کرکے اضلاع بنادیا گیا۔

More Information»
Tando Muhammad Khan
January 112017

ٹنڈو محمد خان

ٹنڈو محمد خان کو 2005ء میں حیدرآباد سے الگ کرکے ضلع کی حیثیت دی گئی۔ یہ ایک ریتیلا علاقہ ہے تاہم علاقے کی بہت بڑی آبادی کاشتکاری کرتی ہے۔

More Information»
Badin
January 112017

بدین

 

ماہی گیروں کے ضلع بدین کی سرحدیں ٹنڈوالٰہ یار، حیدرآباد، میرپورخاص، تھرپارکر، ٹھٹھہ اور ٹنڈو محمد خان کے اضلاع سے ملتی ہیں۔ جنوب میں پاک بھارت سرحد پر متنازعہ دلدلی علاقہ رن کچھ ہے۔ بیشتر لوگ کھیتی باڑی سے وابستہ ہیں تاہم یہاں چار شوگر ملیں ہیں جن میں ہزاروں افراد کام کرتے ہیں۔ ضلع کا 90 فیصد زیر زمین پانی ناقابل استعمال ہے۔ ساحلی علاقوں میں تیل کے بھی کافی ذخائر موجود ہیں۔ بدین کی شام بہت حسین ہوتی ہے اور ضلع اکثر تیز ہوائوں کی زد میں رہتا ہے۔ بدین کے گدھوں کی ملک بھر ممیں بہت مانگ ہے۔ یہاں سالانہ گدھوں کا میلہ ہوتا ہے جس میں نایاب نسل کے گدھوںکی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

More Information»
Sujawal
January 112017

سجاول

 

 

 

 

 

 

 

More Information»
Thatta
January 112017

ٹھٹھہ

 

صدیوں تک سندھ میں مسلم حکمرانوں کا دارالحکومت رہنے والا ٹھٹھہ قدیم علاقہ ہے۔ برطانوی عہد سے پہلے ٹھٹھہ ایک معروف تجارتی گزرگاہ تھا لیکن انگریز دور میں کراچی کو اہمیت ملنے سے یہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔ کیٹی بندر ایک مصروف بندرگاہ تھی، جو اب ویران ہوچکی ہے۔ ضلع ٹھٹھہ سندھ کے انتہائی جنوب میں واقع ہے۔ یہاں دریائے سندھ ڈیلٹا بناتا ہوا سمندر میں جاگرتا ہے۔ دریا میں پانی کم ہونے کی وجہ سے تاریخی ڈیلٹا کو نقصان پہنچ رہا ہے اور ضلع کی ہزاروں ایکڑ اراضی سمندر برد ہوچکی ہے۔ تاریخی قبرستان مکلی اسی ضلع میں واقع ہے۔ ضلع کے نواح میں جدید شہر ذوالفقار آباد بسایا جارہا ہے۔ ٹھٹھہ کی کینجھر اور ہالیجی جھیلوں سے کراچی کو صاف پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

More Information»
All Listing Types All Locations Any Rating

Listing Results