Select Page

ایبٹ آباد

 

ایبٹ آباد اپنے پرفضا مقامات کی وجہ سے ملک بھر میں تو مشہور تھا ہی لیکن مئی 2011ء میں یہاں القاعدہ کے سربراہ کی موجودگی اور امریکی فوجیوں کے آپریشن کے بعد اس ضلع کا نام پوری دنیا میں لیا جانے لگا۔ ایبٹ آباد انگریز دور میں ضلع ہزارہ کا ہیڈکوارٹر تھا۔ وادی اورش میں واقع یہ شہر اس وقت کے انگریز ڈپٹی کمشنر میجر جیمز ایبٹ نے 1853ء میں بسایا تھا۔ انہی کے نام پر اس کا نام ایبٹ آباد رکھا گیا تھا۔ بعد میں یہ فوجی چھائونی میں تبدیل کردیا گیا۔ فوجی افسروں کی ابتدائی تربیت گاہ کاکول اکیڈمی یہیں پر ہے۔ سرسبز مقامات کی وجہ سے یہاں گرمیوں میں بھی موسم خوشگوار ہوتا ہے۔ پائن کے درختوں سے ڈھکے ٹھنڈیانی اور ایوبیہ اہم تفریحی مقامات ہیں۔ ضلع کے مشرق کی طرف دریائے کنہار کے پرے کشمیر کی برفیلی پہاڑیاں نظر آتی ہیں۔ انگریز نے حویلیاں تک ریلوے لائن بچھائی تھی جو آج تک ایبٹ آباد تک نہیں جاسکی۔