Select Page

بنوں

 

سنگلاخ اور چٹیل پہاڑوں کے بیچ واقع بنوں انتہائی زرخیز اور سرسبز و شاداب علاقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں یہاں آنے والے انگریزوں نے اسے ’’فردوس‘‘ سے تشبیہ دی۔ بنوں کی زرخیزی دو دریائوں کرم اور ٹوچی کی مرہون منت ہے۔ ضلع بنوں، شمالی اور جنوبی وزیرستان ایجنسیوں، کرک اور لکی مروت کے اضلاع کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ بنوں شہر کی بنیاد انگریز ڈپٹی کمشنر ہربرٹ ایڈورڈز نے 1848ء میں رکھی۔ پہلے ایڈورڈ آباد بھی کہا جاتا تھا۔ برطانوی دور سے پہلے یہ علاقہ افغان صوبے باختر میں شامل تھا۔ برطانوی سامراج کے خلاف گوریلا جنگ لڑنے والے فقیر ایپی کا تعلق بھی بنوں سے تھا۔ اگست 1930ء میں سپین تنگی کے مقام پر برطانوی فوج نے تحریک آزادی کے جلسے پر گولی چلاکر درجنوں افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ ضلع کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے تاہم کپڑے اور مشینری کی صنعتیں بھی مقامی معیشت میں اہمیت کی حامل ہیں۔