Select Page

بونیر

 

یوسف زئی قوم کے ضلع بونیر کو ہنر مند افرادی قوت، خوبصورت قدرتی مناظر، گھنے جنگلات اور معدنی دولت کی وجہ سے مالاکنڈ ڈویژن میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ضلع بونیر صوبہ خیبرپختونخوا کے امیر ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد ملائیشیا، خلیجی ممالک، یورپ اور امریکا میں مختلف پیشوں سے وابستہ ہے۔ زراعت بھی یہاں کی معیشت کا اہم حصہ ہے تاہم مقامی آبادی کی بہت کم تعداد عملی طور پر زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے اس لیے کاشت کاری کے لیے قریبی اضلاع سے لوگوں کو لایا جاتا ہے۔ ضلع میں سکھ مذہب کے پیروکاروں کی بڑی تعداد بھی آباد ہے۔ 2009ء میں مالا کنڈ ایجنسی سے آنے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں نے یہاں قدم جمانے کی کوشش کی تاہم بروقت فوجی کارروائی کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ صوفی بزرگ علی شاہ ترمذی المعروف پیر بابا کا مزار بونیر میں ہے جسے انتہا پسندوں نے کئی بار نشانہ بنایا ہے۔