Select Page

چترال

ہمالیہ چوٹی ترچ میر کے دامن میں چھوٹی بڑی وادیوں پر مشتمل چترال رقبے کے لحاظ سے خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ اس کے شمال اور مغرب میں افغانستان، مشرقی میں گلگت، بلتستان اور جنوب میں دیراپر اور سوات کے اضلاع واقع ہیں۔ شمال میں واخان کی پٹی چترال کو وسطی ایشیائی ریاست تاجکستان سے جدا کرتی ہے۔ دیر اور سوات کی طرح چترال بھی 1969ء تک ایک آزاد ریاست تھی۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں 17 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ضلع چترال میں کافرستان کے نام سے مشہور تین وادیوں پر مشتمل علاقے میں صدیوں سے آباد کالاش قبیلے کی مذہبی اور ثقافتی روایات، موسیقی، رقص اور لباس سیاحوں کے لیے ہمیشہ سے دلچسپ اور کشش کا باعث رہے ہیں۔ برف پوش پہاڑوں میں گھرا یہ علاقہ سردیوں میں لواری ٹاپ پر برف پڑنے کی وجہ سے چھ ماہ تک ملک کے دیگر حصوں سے کٹ کر رہ جاتا ہے اور لوگوں کو افغانستان کے راستے پشاور اور ملک کے دیگر علاقوں تک پہنچنا پڑتا ہے۔ سالہاسال سے زیر تعمیر 9 کلو میٹر طویل لواری سرنگ اب بھی مکمل طور پر قابل استعمال نہیں ہوسکی۔