Select Page

کرک

ضلع کرک کی سرحدیں بنوں، کوہاٹ اور صوبہ پنجاب سے ملتی ہیں۔ کٹی پھٹی سلسلہ وار پہاڑیوں اور سخت بنجر میدانوں پر مشتمل ضلع میں بہادر خیل کے مقام پر نمک کی کانیں موجود ہیں۔ یہ ذخائر بڑے علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے زمین شور زدہ ہوچکی ہے اور زراعت کے لیے موزوں نہیں رہی۔ اس ضلع کا بڑا مسئلہ پانی ہے جو نہ صرف آبپاشی بلکہ پینے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ تھوڑی بہت زرعی زمین بھی بارشوں کی محتاج ہے۔ یہی وجہ ہے زراعت کے پیشے سے وابستہ افراد کی تعداد نہایت کم ہے اور زیادہ تر لوگ سرکاری ملازمتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ پہلے پشاور سے ڈی آئی خان جانے والی شاہراہ کرک شہر اور آبادیوں سے فاصلے پر تھی۔ اب انڈس ہائی وے کرک ہی سے گزرتی ہے۔ جو لوگوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں لارہی ہے۔ گرگری کے مقام پر دریافت ہونے والے تیل اور گیس کے ذخائر کی وجہ سے یہاں کی پسماندگی کم کرنے میں مدد ملی ہے۔