Select Page

کوہستان

کوہستان کے لغوی معنی ’’پہاڑوں کی سرزمین‘‘ ہیں اور اپنے نام کے مصداق یہ ضلع بلند بالا پہاڑوں، ندیوں، دریائوں، پہاڑی جھرنوں اور جنگلات پر مشتمل ہے۔ خیبرپختوانخوا کا یہ ضلع خشک و بنجر پہاڑیوں، مشکل زندگی، ناکافی ترقی اور غربت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ کوہستان کو 1976ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا۔ اس سے قبل دریائے سندھ کے مغربی جانب والا کوہستان کا حصہ والی سوات کی ریاست میں شامل تھا۔ مغربی جانب کا علاقہ باغستان (باغی لوگوں کی سرزمین) کہلاتا تھا۔ کولائی، درہ مداخیل، تالس اور جالکوٹ کے علاقوں پر مشتمل باغستان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد رہے ہیں اور کبھی کسی کی غلامی قبول نہیں کی۔ ضلع کی حدود سوات، وادی ناران، بٹگرام اور گلگت بلتستان کے ضلع چلاس سے ملتی ہیں۔ دیہی آبادی دریائے سندھ کے مشرقی اور مغربی جانب مختلف پہاڑی نالوں کے قریب آباد ہے۔ آبادی کا غالب حصہ زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے یہاں مسجد کا مولوی ہی ہر سیاہ و سفید کا مالک ہے۔ 1976ء اور 2005ء کے زلزلوں نے اس علاقے میں کافی تباہی پھیلائی تھی۔